پاکستان نے علاقائی تجارت کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے 282 ارب روپے کی لاگت سے این–25 شاہراہ کی اپ گریڈیشن شروع کر دی ہے۔ یہ شاہراہ بلوچستان کو چین اور افغانستان کے ساتھ براہِ راست جوڑتی ہے۔ اس منصوبے سے مواصلاتی نظام بہتر ہوگا اور تجارت کو نئی رفتار ملے گی۔

گوادر — ابھرتا ہوا معاشی مرکز

گوادر پاک–چین اقتصادی راہداری کا مرکزی مقام ہے۔ اب این–25 کی اپ گریڈیشن سے شہر کی تجارتی اہمیت مزید بڑھے گی۔ اس راستے سے گوادر بندرگاہ کی رسائی بہتر ہوگی۔
سامان کی ترسیل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز اور کم لاگت پر ممکن ہوگی۔ یہ تبدیلی مقامی کاروبار اور بڑے سرمایہ کاروں دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
ایسٹ بے ایکسپریس وے اور مکران کوسٹل ہائی وے پہلے ہی رابطوں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ این–25 کی بہتری ان دونوں منصوبوں کو مزید تقویت دے گی۔

علاقائی تعاون اور معاشی فوائد

این–25 کی تکمیل سے پاکستان، چین اور افغانستان کی تجارت بڑھے گی۔ اس سے خطے میں معاشی تعاون اور استحکام میں اضافہ ہوگا۔
چین کے ساتھ دوطرفہ تجارت بہتر ہوگی۔ افغانستان کے ساتھ بارڈر ٹریڈ بھی زیادہ مضبوط ہو جائے گی۔ نتیجتاً بلوچستان میں روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

کینیڈین سٹی گوادر — محفوظ اور جدید سرمایہ کاری

گوادر کی مسلسل ترقی رئیل اسٹیٹ کے لیے نئے راستے کھول رہی ہے۔ کینیڈین سٹی گوادر ایک جدید اور محفوظ رہائشی و تجارتی منصوبہ ہے۔
یہ شہر کے مرکزی علاقے میں واقع ہے اور ایسٹ بے ایکسپریس وے سے تقریباً 2.5 کلومیٹر دور ہے۔ مکران کوسٹل ہائی وے پر واقع ہونا اس منصوبے کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے اور اسے مستقبل کی معاشی سرگرمیوں کے لیے ایک بہترین مقام بناتا ہے۔
اگر آپ گوادر کی ترقی کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تو آج کی سرمایہ کاری کل کا بہترین منافع بن سکتی ہے۔