علاقائی رابطے اور تجارتی تعلقات ہمیشہ سے ترقی اور خوشحالی کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ خواب اب حقیقت کے قریب دکھائی دے رہا ہے کیونکہ قازقستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ چین کے ذریعے پاکستان کو وسطی ایشیا سے جوڑنے والی نئی تجارتی راہداریوں کی تعمیر کے لیے مکمل سرمایہ کاری کرنے پر تیار ہے۔
ملاقات اور پیشکش
اسلام آباد میں قازقستان کے سفیر یرزہان کیستافین نے وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان سے ملاقات کے دوران اس اہم منصوبے کی تفصیلات بتائیں۔ ان کے مطابق نئی راہداریوں کا مقصد موجودہ مشکل اور تقسیم شدہ زمینی راستوں کی جگہ جدید، محفوظ اور زیادہ مؤثر راستے دینا ہے۔ یہ تمام راہداری چین کے ذریعے گزریں گی، جس سے تجارتی بہاؤ تیز اور محفوظ ہو جائے گا۔
قازقستان–پاکستان تعلقات میں نیا موڑ
یہ تجویز نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط کرے گی بلکہ انہیں یوریشین ٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں بھی شامل کرے گی۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے چین جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کو جوڑنے والے ایک اہم پل کا کردار ادا کرے گا۔
موجودہ راستے اور نئے منصوبے
سفیر نے موجودہ تجارتی راہداری کا حوالہ دیا جو کاشغر (چین) سے ترکمانستان اور قازقستان تک جاتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کراچی–چمن–قندھار روٹ میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یہ نیٹ ورک مزید مؤثر ہو سکے۔
نومبر میں اہم دورہ
ایک بڑی سفارتی پیش رفت کے طور پر، قازقستان کے صدر نومبر کے پہلے ہفتے میں دو روزہ دورے پر پاکستان آئیں گے۔ اس دورے کے دوران بڑے تجارتی معاہدے ہونے کی توقع ہے۔ اس مقصد کے لیے دونوں ملکوں نے تجارت اور ٹرانسپورٹ میں مشترکہ ورکنگ گروپس بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کا ویژن
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے چین کو مرکزی ٹرانزٹ حب بنانا چاہتا ہے۔ سی پیک اور دیگر زمینی راستوں جیسے افغانستان اور ایران کے راستے اس ویژن کو عملی جامہ پہنائیں گے۔
انہوں نے قراقرم ہائی وے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے اس سڑک نے شمالی پاکستان کو بڑے مراکز سے جوڑا، ویسے ہی نئی راہداریوں کا مقصد ایک مربوط نیٹ ورک بنانا ہے جو پورے خطے کو ترقی اور تجارت کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔
علاقائی اہمیت
بیلا روس اور ایران میں حالیہ کانفرنسوں میں بھی زمینی تجارت کے فروغ پر بات ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پورا خطہ تجارتی روابط کو بڑھانے کی کوشش میں ہے۔ چین سے گزرنے والا یہ نیا انفراسٹرکچر پاکستان کے لیے خطے کا مرکزی ٹرانزٹ اسٹیٹ بننے کا موقع فراہم کرے گا۔

