گوادر پورٹ اتھارٹی پر دستخط کیے ہیں، جس کا (GPA) نے چین کی معروف کمپنی شِنِنگ انٹرپرائز (Xinning Enterprise) مفاہمتی خط (Letter of Intent)
مقصد گوادر پورٹ اور اس کے فری زون میں صنعتی اور تجارتی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ وزارتِ بحری امور نے منگل کے روز اس معاہدے کی تصدیق کی۔
:معاہدے کے نمایاں نکات
گوادر کو علاقائی ٹرانس شپمنٹ حب میں تبدیل کرنا ·
نئے صنعتی منصوبوں کا آغاز ·
گوادر فری زون کی موجودہ سہولیات کو بہتر بنانا ·
بندرگاہ کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے صنعتوں کی منتقلی ·
یہ معاہدہ شِنِنگ انٹرپرائز کے نمائندے یی جیانگ اور وزارتِ بحری امور کے ایڈیشنل سیکریٹری عمر ظفر شیخ کے درمیان طے پایا۔
گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نورالحق بلوچ نے ورچوئل طور پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اس معاہدے کو ایک اسٹریٹجک سنگِ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شراکت داری گوادر کو علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔
انہوں نے شِنِنگ کمپنی کی تکنیکی اور مالی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام گوادر پورٹ کی سرگرمیوں میں بہتری، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور بلوچستان کی معیشت کے لیے تقویت کا باعث بنے گا۔
گوادرسرمایہ کاری کا بہترین مرکز
گوادر پورٹ اور شِنِنگ کمپنی کے درمیان یہ معاہدہ نہ صرف سی پیک کے مستقبل کو مضبوط بناتا ہے بلکہ پاکستان کی اس خواہش کا بھی اظہار ہے کہ وہ گوادر کو علاقائی تجارتی مرکز میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
پورٹ کی توسیع، صنعتی تعاون، اور سرحد پار رابطوں کے ساتھ، گوادر تیزی سے ایک اقتصادی انجن کی صورت اختیار کر رہا ہے جو پورے خطے کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

