وزیراعظم شہباز شریف اور چینی وزیرِاعظم لی چیانگ کی ملاقات میں سی پیک 2.0 پر قریبی تعاون اور 21 معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
سی پیک 2.0 کے اہم نکات
پانچ نئے کاریڈورز کا آغاز (صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی، تجارت، معدنیات)
ایم ایل ون ریلوے منصوبے اور قراقرم ہائی وے کی توسیع کو ترجیح
گوادر پورٹ کی مکمل فعالیت پر زور
دونوں ممالک کا 2024-2029 کے مشترکہ ایکشن پلان پر دستخط
گوادر کی اہمیت
گوادر کو سی پیک کا دل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ:
یہ خطے کے لیے تجارتی گیٹ وے ہے
مقامی روزگار اور سرمایہ کاری کے بڑے مواقع پیدا کرے گا
بندرگاہ کو عالمی سطح پر ایک فعال ہب بنایا جا رہا ہے
سرمایہ کاری اور سلامتی
وزیراعظم نے چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور یقین دلایا کہ
سرمایہ کاروں اور منصوبوں کی سلامتی اولین ترجیح ہوگی
کسی بھی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی
خصوصی اقتصادی زونز میں صنعتوں کے قیام کے لیے پاکستان تیار ہے
نتیجہ
سی پیک 2.0 کو دونوں ممالک کے لیے ایک ون ون منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو استحکام ملے گا بلکہ گوادر سمیت پورے خطے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دروازے کھلیں گے۔

