گوادر پاکستان کے معاشی نقشے پر ابھرتا ہوا وہ ستارہ ہے جسے مستقبل میں علاقائی اور عالمی تجارت کا مرکز قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے مالی سال 2025-26 میں گوادر ک ترقی کے لیے 13.63 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کر کے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ گوادر ملک کے لیے محض ایک شہر نہیں بلکہ قومی ترقی اور خوشحالی کی علامت ہے۔

زمینی اور فضائی منصوبے

ترقیاتی منصوبوں میں سب سے بڑا حصہ گوادر-رتوڈیرو روڈ (ایم-8) کو دیا گیا ہے۔ اس شاہراہ کی تعمیر کے لیے اس سال 3 ارب روپے مختص ہوئے ہیں، جو گوادر کو اندرون ملک کے شہروں سے جوڑ کر تجارت اور آمدورفت کے نئے دروازے کھولے گی۔

اسی طرح نیا گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے 4 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف ملکی بلکہ عالمی فضائی رابطوں کو مضبوط کرے گا اور گوادر کو حقیقی معنوں میں ایک بین الاقوامی تجارتی مرکز میں بدل دے گا۔

شہری سہولیات اور جدید سکیورٹی نظام

گوادر کی شہری زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے گوادر سیف سٹی پراجیکٹ کو اس سال 1.5 ارب روپے ملیں گے۔ جدید نگرانی کے نظام سے مزین یہ منصوبہ شہر میں امن و امان کو مزید مستحکم کرے گا۔

اسی کے ساتھ اولڈ ٹاؤن کی بحالی، ماحولیاتی صفائی کے منصوبے اور سمارٹ سینیٹیشن سسٹم شہری سہولتوں کو نئے معیار سے ہم آہنگ کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی

گوادر کی نئی نسل کو ترقی کے سفر میں شامل کرنے کے لیے تعلیم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

 یونیورسٹی آف گوادر (فیز-1) کے لیے رواں سال 50 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

کینیڈین سٹی گوادر کے بھی فیز 1 میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔

 ایف جی جونیئر پبلک اسکول کے قیام پر 10 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔

طلبہ کے لیے ایچ ای سی اسکالرشپ اسکیم میں مزید فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔

یہ اقدامات گوادر کے نوجوانوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہتر مواقع فراہم کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔

پانی اور توانائی کے منصوبے

پانی کی کمی کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے فریش واٹر ٹریٹمنٹ اور ڈسٹری بیوشن سسٹم کو فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شہزینک ڈیم اور دیگر منصوبے بھی اس اہم ضرورت کو پورا کرنے میں مدد دیں گے۔

توانائی کے شعبے میں فری زون نارتھ اور ساؤتھ کے لیے نئے فیڈرز اور بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی گئی ہے تاکہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔

بلیو اکانومی اور بحری شعبے کی ترقی

:گوادر کو مستقبل میں بلیو اکانومی کا مرکز بنانے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن میں

 بلو اکانومی سینٹر

 اوشینوگرافک ریسرچ سب اسٹیشن

 گوادر شپ یارڈ

یہ منصوبے پاکستان کو بحری تحقیق، جہاز سازی اور سمندری معیشت میں نمایاں مقام دلانے کی بنیاد رکھیں گے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے گوادر کے لیے 13 ارب روپے سے زائد کی فنڈنگ محض ایک بجٹ اعلان نہیں، بلکہ پاکستان کے معاشی مستقبل کا روڈمیپ ہے۔ یہ منصوبے گوادر کے شہریوں کو تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولتوں سے آراستہ کریں گے، جبکہ ملکی معیشت کو خطے کے ساتھ مضبوط روابط کے ذریعے نئی سمت فراہم کریں گے۔

گوادر اب صرف ایک ساحلی شہر نہیں، بلکہ پاکستان کی ترقی کا دروازہ اور عالمی تجارت کا نیا سنگِ میل ہے۔