گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (GDA) نے مالی سال 2025-26 کے لیے اپنا سالانہ بجٹ باضابطہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس بجٹ کی منظوری جی ڈی اے کی گورننگ باڈی کے 31ویں اجلاس میں دی گئی جو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی سربراہی میں منعقد ہوا۔

اجلاس کے دوران گوادر میں پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ جی ڈی اے کے واٹر پروجیکٹ کے لیے مختلف گرانٹس کو یکجا کرنے اور اس منصوبے کے لیے فنڈز میں اضافے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ شہر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پانی کی فراہمی کے لیے مزید پائیدار اور متبادل ذرائع تلاش کیے جائیں۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ گوادر کے شہری انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی کی جائے۔ اس سلسلے میں نکاسی آب اور سیوریج سسٹم کی بہتری، سڑکوں کی تعمیر اور نشیبی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے فیزیبلٹی رپورٹس تیار کرنے کی منظوری دی گئی۔

یہ ترقیاتی اقدامات خاص طور پر TTC کالونی، بخشی کالونی، شمبے اسماعیل اور نیا آباد جیسے علاقوں میں کیے جائیں گے تاکہ ان علاقوں کے مسائل کو حل کیا جا سکے اور انہیں آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کا حصہ بنایا جا سکے۔

اجلاس میں جی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل معین الرحمان خان نے بتایا کہ سد ڈیم جو گزشتہ دو برسوں سے بارشوں کی کمی کے باعث خشک ہو گیا تھا، حالیہ بارشوں کے بعد دوبارہ پانی سے بھر گیا ہے اور وہاں سے پانی کی سپلائی بحال ہو گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شادی کور ڈیم اور گوادر پورٹ اتھارٹی کا پلانٹ بھی شہر کو پانی فراہم کر رہے ہیں جس کی بدولت اس وقت گوادر میں پانی کی فراہمی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔

گوادر میں جاری یہ اقدامات شہر کی ترقی، بہتر شہری سہولیات اور مستقبل میں بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔