پاک–چائنا فرینڈشپ ہسپتال گوادر نے سال 2025 میں صحت کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا ہے۔ اس جدید ہسپتال میں 4 لاکھ 32 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا، جبکہ زیادہ تر طبی سہولیات مفت فراہم کی گئیں۔ یہ منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت چینی امداد سے قائم کیا گیا، جو آج گوادر اور مکران کے عوام کے لیے صحت کی ایک مضبوط بنیاد بن چکا ہے۔

گوادر جیسے ساحلی اور نسبتاً دور افتادہ علاقے میں معیاری طبی سہولیات کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ رہی ہے۔ پاک–چائنا فرینڈشپ ہسپتال نے اس خلا کو پُر کرتے ہوئے مقامی عوام کو اپنے ہی شہر میں جدید علاج کی سہولت فراہم کی ہے، جس سے مریضوں کو کراچی یا دیگر بڑے شہروں کا سفر کرنے کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔

گوادر میں مفت علاج اور جدید سہولیات

پاک–چائنا فرینڈشپ ہسپتال گوادر میں او پی ڈی، ایمرجنسی، لیبارٹری ٹیسٹ، تشخیصی سہولیات اور ادویات جیسی بنیادی خدمات بلامعاوضہ فراہم کی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق سہولیات نے علاقے میں محفوظ زچگی اور ماں و بچے کی بہتر دیکھ بھال کو یقینی بنایا ہے۔

ان مفت سہولیات کی بدولت غریب اور متوسط طبقے پر علاج کا مالی بوجھ کم ہوا ہے، جبکہ بروقت تشخیص اور علاج کے باعث بیماریوں کی پیچیدگیوں میں بھی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یہ ہسپتال گوادر کے عوام کے لیے اعتماد اور سہولت کی علامت بنتا جا رہا ہے۔

سی پیک اور پاک–چین دوستی کا عملی ثبوت

پاک–چائنا فرینڈشپ ہسپتال گوادر، سی پیک کے اُن منصوبوں میں شامل ہے جو صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ انسانی فلاح و بہبود کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔ چین کی جانب سے فراہم کی گئی مالی اور تکنیکی معاونت نے گوادر کے صحت کے نظام کو ایک نئی سمت دی ہے۔

یہ ہسپتال پاک–چین دوستی کی ایک عملی مثال ہے، جس کے ثمرات براہِ راست عام عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ مستقبل میں اگر اس منصوبے کو مزید وسعت دی جاتی ہے تو گوادر نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے خطے میں صحت کے شعبے کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔