گوادر، پاکستان کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا ساحلی شہر، اب گرین پورٹ ماڈل کے تحت عالمی معیار کی ماحول دوست بندرگاہ بننے جا رہا ہے۔3 نومبر 2025 کو پاکستان اور چین نے اس ماڈل پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا، جس کا مقصد گوادر کو تجارت، سرمایہ کاری اور جدید شہری زندگی کا مرکزی مقام بنانا ہے۔

گوادر کی گہری سمندری بندرگاہ، عالمی بحری راستوں کے قریب موجودگی اور خطے میں جغرافیائی اہمیت اسے پہلے ہی عالمی تجارت کا مرکز بنا رہی ہے۔ گرین پورٹ ماڈل کے تحت شہر کو جدید ٹیکنالوجی، صاف توانائی، ماحول دوست مشینری اور جدید شہری نظام سے مضبوط کیا جائے گا، تاکہ آنے والے برسوں میں اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔

گرین پورٹ ماڈل کے اہم اقدامات

:اس ماڈل کے تحت گوادر میں درج ذیل اقدامات شامل ہیں

سورج اور ہوا سے بجلی حاصل کر کے صاف توانائی کو فروغ دینا

ماحول دوست شپنگ سسٹم اور کم دھواں چھوڑنے والی جدید مشینری

ساحلی علاقوں کو جدید شہری معیار کے مطابق تیار کرنا

بندرگاہ کے اردگرد سبز پٹی، باغات اور صاف ماحول قائم کرنا

توانائی کی بچت کرنے والے جدید نظام اور ٹیکنالوجی استعمال کرنا

مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا

سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے محفوظ اور پائیدار ماحول فراہم کرنا

سیاحت میں اضافہ اور گوادر کی عالمی شناخت مضبوط کرنا

کینیڈین سٹی گوادر: سبز ترقی میں حصہ

کینیڈین سٹی گوادر اس ترقیاتی ماڈل کا حصہ ہے، جہاں جدید رہائش، محفوظ سرمایہ کاری اور صاف ماحول دستیاب ہیں۔ ماسٹر پلان ماحول دوست اصولوں پر تیار کیا گیا ہے تاکہ بندرگاہی سرگرمیاں، نئی آبادی اور کاروباری ضروریات بہتر انداز میں پوری ہوں۔ یہ منصوبہ گوادر میں رہائش اور سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ اور روشن موقع فراہم کرتا ہے۔