گوادر پورٹ اس وقت ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں حکومتِ پاکستان اور گوادر پورٹ اتھارٹی (GPA) کی نئی پالیسیز نے اسے بین الاقوامی تاجروں کے لیے پرکشش ترین انتخاب بنا دیا ہے۔ اگر آپ درآمد و برآمد یا لاجسٹکس سے وابستہ ہیں، تو یہ خبریں آپ کے کاروبار کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہیں۔
تاجروں کے لیے نئی مراعات اور سہولیات
مفت اسٹوریج: 8 مئی سے پورٹ پر کارگو کے لیے 30 دن کی مفت اسٹوریج کی سہولت کا آغاز کر دیا گیا ہے، جو دیگر علاقائی بندرگاہوں کے مقابلے میں ایک بڑی رعایت ہے۔
ٹیکس فری زون: گوادر فری زون میں سرمایہ کاروں کو ٹیکس چھوٹ اور صنعتی مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد کی سہولت میسر ہے۔
کم ترین ٹیرف: گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین کے مطابق، گوادر پورٹ اس وقت خطے میں جدید ترین سہولیات کے ساتھ کم ترین ٹیرف فراہم کر رہا ہے۔
ایران اور وسطی ایشیا تک تیز ترین رسائی
گوادر کا محل وقوع اسے وسطی ایشیا اور ایران کے لیے قدرتی گیٹ وے بناتا ہے۔
فاصلے میں کمی: دیگر شہروں کی نسبت گوادر سے ایران اور وسطی ایشیا کا فاصلہ سینکڑوں کلومیٹر کم ہے، جس سے ایندھن اور وقت کی بڑی بچت ہوتی ہے۔
گبد-ریمدان (250) روٹ: اس سرحدی راستے کو ایران اور وسطی ایشیا تک کارگو کی ترسیل کے لیے ایک مؤثر ‘ملٹی موڈل’ سہولت قرار دیا گیا ہے۔
تجارتی وفود کی آمد: ایران سے ایک اعلیٰ سطح کا تجارتی وفد جلد گوادر کا دورہ کرے گا، جو پاک-ایران تجارتی تعلقات میں نئے باب کا اضافہ کرے گا۔
کینیڈین سٹی گوادر: سرمایہ کاری کا بہترین موقع
ان تمام معاشی سرگرمیوں کا مرکز کینیڈین سٹی گوادر کے بالکل قریب ہے۔ جیسے جیسے پورٹ کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، اس علاقے میں زمین کی قیمتوں اور تجارتی اہمیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ وقت گوادر کی ترقی کا حصہ بننے کا بہترین موقع ہے۔

