پاکستان اور چین نے ایک اور اہم معاشی شراکت داری کا آغاز کیا ہے۔ چین کی میکوم گروپ اور پاکستان کی ٹیکنو گروپ نے 12 ملین ڈالر مالیت کا مشترکہ منصوبہ طے کیا ہے، جس کے تحت گوادر پورٹ پر جدید فش میل پروسیسنگ پلانٹ قائم کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ بیجنگ میں منعقدہ دوسرے پاک-چین بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس میں کیا گیا۔

منصوبے کی تفصیلات

اس منصوبے پر دو مراحل میں کام کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے کے لیے 4 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری رکھی گئی ہے اور اس دوران پلانٹ کو سالانہ 15,000 ٹن فش میل پیدا کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔ اس پروسیسنگ پلانٹ میں گوادر اور بحیرہ عرب سے حاصل ہونے والی ساردین اور دیگر تازہ مچھلیوں کو پروسیس کر کے فیڈ گریڈ فش میل اور فش آئل تیار کیا جائے گا۔ یہ  مصنوعات خاص طور پر چین کی آبی زراعت کی مارکیٹ میں استعمال ہوں گی۔ (Aquaculture)

ٹیکنو گروپ (پاکستان) مقامی سطح پر مچھلیوں کی خریداری اور پلانٹ کی پیداوار کی نگرانی کرے گی۔

میکوم گروپ (چین) جدید ٹیکنالوجی فراہم کرے گی اور تیار شدہ مصنوعات کی سیلز اور مارکیٹنگ کا انتظام سنبھالے گی۔

 بھی اس مشترکہ منصوبے میں شراکت دار ہوگی۔  (CYCLON)ایک تیسری کمپنی سائکلون

تجارتی تعاون کی وسعت

یہ معاہدہ صرف فش میل پلانٹ تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید بڑھانے کا بھی باعث بنے گا۔ اس کے تحت

پاکستان چین کو تل، مونگ پھلی، کپاس کے بیج اور معدنیات برآمد کرے گا۔

چین پاکستان کو سولر پینلز، انرجی اسٹوریج سسٹمز اور دیگر توانائی کے جدید آلات فراہم کرے گا۔

معاہدے پر دستخط کے موقع پر دونوں کمپنیوں کے سربراہان نے مثبت خیالات کا اظہار کیا۔

میکوم گروپ کے صدر گاؤ جھی گانگ نے کہا کہ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا اور پاکستان کی ماہی گیری اور توانائی کے شعبے میں نئے مواقع پیدا کرے گا۔

ٹیکنو گروپ کے سی ای او عامر علاؤالدین نے کہا کہ یہ شراکت داری نہ صرف ایک کامیاب سرمایہ کاری ہے بلکہ دونوں ممالک کے لیے طویل المدتی اقتصادی تعاون کی بنیاد بھی ہے۔

گوادر میں فش میل پروسیسنگ پلانٹ کا قیام پاک-چین دوستی کے مضبوط رشتے کی ایک اور روشن مثال ہے۔ یہ منصوبہ مقامی ماہی گیروں، زراعت، توانائی اور برآمدات کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔